عجب تقاضے ہیں چاہتوں کے
بڑی کٹھن یہ مسافتیں ہیں
میں جس کی راہوں میں بھی گیا ہوں
اسی کو مجھ سے شکایتیں ہیں
شکایتیں سب بجا ہیں لیکن
میں کیسے اس کو یقین دلاؤں
جو مجھ کو جان سے عزیز تر ہے
اسے بھلاؤں تو مر نہ جاؤں
میں خاموشی کی انتہا میں
کہا کہا سے گزر گیا ہوں
اسے خبر بھی نہیں ہے شاید
میں دھیرے دھیرے بکھر گیا ہوں
♥♥♥♥♥♥♥♥
♥♥♥♥♥♥♥♥
No comments:
Post a Comment